Sitaron se ulajhta ja raha hoon

Shab-e-furqat bahut ghabra raha hoon

Tire gham ko bhi kuchh bahla raha hoon

Jahan ko bhi samajhta ja raha hoon

Yaqin ye hai haqiqat khul rahi hai

Guman ye hai ki dhoke kha raha hoon

Agar mumkin ho le le apni aahat

Khabar do husn ko main aa raha hoon

Haden husn-o-mohabbat ki mila kar

Qayamat par qayamat Dha raha hoon

Khabar hai tujh ko ai zabt-e-mohabbat

Tire hathon mein lutta ja raha hoon

Asar bhī le raha huun teri chup ka

Tujhe qaa.il bhi karta ja raha hoon

Bharam tere sitam ka khul chukā hai

Main tujh se aaj kyun sharma raha hoon

Unhin mein raaz haiñ gul-bāriyoñ ke

Main jo chingariyan barsa raha hoon

Jo un ma.asau ankhon ne diye the

Vo dhoke aaj tak main kha raha hoon

Tire pahlu mein kyun hota hai mahsoos

Ki tujh se duur hota ja raha hoon

Had-e-jor-o-karam se barh chala husn

Nigah-e-yar ko yaad aa raha hoon

Jo uljhi thi kabhī aadam ke hāthoñ

Vo gutthi aaj tak suljha raha hoon

Mohabbat ab mohabbat ho chali hai

Tujhe kuchh bhūltā sā jā rahā hoon

Ajal bhī jin ko sun kar jhumti hai

Vo naġhme zindagi ke ga raha hoon

Ye sannata hai mere paaon ki chaap

‘Firaq’ apnī kuchh aahaT pā rahā hoon

ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں
شب فرقت بہت گھبرا رہا ہوں

ترے غم کو بھی کچھ بہلا رہا ہوں
جہاں کو بھی سمجھتا جا رہا ہوں

یقیں یہ ہے حقیقت کھل رہی ہے
گماں یہ ہے کہ دھوکے کھا رہا ہوں

اگر ممکن ہو لے لے اپنی آہٹ
خبر دو حسن کو میں آ رہا ہوں

حدیں حسن و محبت کی ملا کر
قیامت پر قیامت ڈھا رہا ہوں

خبر ہے تجھ کو اے ضبط محبت
ترے ہاتھوں میں لٹتا جا رہا ہوں

اثر بھی لے رہا ہوں تیری چپ کا
تجھے قائل بھی کرتا جا رہا ہوں

بھرم تیرے ستم کا کھل چکا ہے
میں تجھ سے آج کیوں شرما رہا ہوں

انہیں میں راز ہیں گلباریوں کے
میں جو چنگاریاں برسا رہا ہوں

جو ان معصوم آنکھوں نے دیے تھے
وہ دھوکے آج تک میں کھا رہا ہوں

ترے پہلو میں کیوں ہوتا ہے محسوس
کہ تجھ سے دور ہوتا جا رہا ہوں

حد‌‌ جور‌ و کرم سے بڑھ چلا حسن
نگاہ یار کو یاد آ رہا ہوں

جو الجھی تھی کبھی آدم کے ہاتھوں
وہ گتھی آج تک سلجھا رہا ہوں

محبت اب محبت ہو چلی ہے
تجھے کچھ بھولتا سا جا رہا ہوں

اجل بھی جن کو سن کر جھومتی ہے
وہ نغمے زندگی کے گا رہا ہوں

یہ سناٹا ہے میرے پاؤں کی چاپ
فراقؔ اپنی کچھ آہٹ پا رہا ہوں