Mint

پودینہ

ودینہ سے متعلق ایک بڑی دلچسپ کہانی مشہور ہے کہ قدیم یونانی دیو مالائی شخصیت پرسی فون جو پلوٹو کی حاسد بیوی تھی نے ‘ایک خوبصورت کنیز منتھ کو ختم کرنا چاہا تو پلوٹو نے دخل اندازی کرتے ہوئے منتھ کو پودینہ یعنی منٹ میں تبدیل کر دیا جو اپنی خوشبو کے لحاظ سے بے مثال ہے دلچسپ بات ہے کہ خوشبودار پودینہ قدیم یونان اور رومن دور میں بطور تاج پہنا جاتا تھا۔

پودینہ کو گھروں اور عبادت گاہوں کی زینت بنایا جاتا تاکہ تازہ اور خوشبودار ہوا آرپار ہو سکے ۔
قدیم یہودی بھی اپنے سینے گاگ کے فرش پر پودینہ رکھا کرتے تھے ‘تاکہ ہر قدم پر پودینہ کی مہک معطر جاں بن سکے۔پودینہ میزبانی کا استعارہ ہے ‘قدیم یونانی اور رومن کھانے کی میز پر پودینہ رگڑ ا کرتے تھے ‘جس کا مطلب دل کی گہرائیوں سے مہمان کو خوش آمدید کہنا ہوتا تھا۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق مشہور رومن نیچر لسٹ پلنی نے کہا تھا کہ ”پودینہ کی خوشبو ہماری روحوں کو تازہ کر دیتی ہے ۔“یہ ایک حقیقت ہے کہ پودینے کی خوشبو توانائی کی سطح میں اضافہ کرتی ہے۔
قدیم یونان اور رومن پودینہ غسل کے پانی میں ڈال کر فرحت حاصل کیا کرتے تھے ایک آیور یدک روایت کے مطابق جب ہمارے جسم کی مخصوص توانائی کی طاقتیں دماغ اور نروس سسٹم کو کنٹرول میں لیتی ہیں ‘تو زہریلے اثرات پیدا ہوتے ہیں ۔

ایسے میں پودینے کے پتے مخصوص توانائی کو پورے جسم میں پھیلا دیتے ہیں ۔اس عمل سے نہ صرف فرحت حاصل ہوتی ہے بلکہ دماغ کھل جاتا ے اور دماغی اور جذباتی بھارتی پن اور ٹینشن کا خاتمہ ہوتا ہے اور ہم خود کو دوبارہ توانا محسوس کرتے ہیں ۔پودینہ روح اور جسم کو فرحاں وشاداں کرنے کے لیے بے مثال ہے ۔
پودینہ کا جوس اس مقصد کے لیے بہترین ذریعہ ہے اور یہ اعصاب کو پر سکون رکھتا ہے ۔

بہت سے حکماء کے نزدیک پودینہ دماغ اور جسم کو سکون دیتا ہے ‘جبکہ ماہرین کے نزدیک پودینہ میں موجود ضروری وٹامن ‘معدنیات اور تیلوں کی موجودگی اسے صدیوں سے شفائی خصوصیات پر مبنی پودا بنائے ہوئے ہے اور بہت سی بیماریوں کا علاج ہے ۔ایک حالیہ سائنٹفک سروے کے مطابق پودینہ میں موجود تیل میں اعلیٰ درجے کا وٹامن Aاور Cفلوونائیڈ ز اور مینتھول ‘فائبر ‘فولاد ‘تانبہ‘کیلشیم فولک ایسڈ اور اومیگا تھری پائے جاتے ہیں ۔

اس کے علاوہ پودینے میں اسکوربک ایسڈ بھی موجود ہے اور پوٹاشیم اور مینگنیز بھی ‘یہ تمام عناصر بیماریوں کو دور بھگاتے ہیں ۔
بحیرہ روم کے باشندے ایک کپ چائے میں پودینہ کی ایک ٹہنی ڈال کر اسے نظام ہضم کی خرابی میں استعمال کیا کرتے تھے ۔خاص طور پر مرغن غذا کے بعد پودینہ کی چائے پینا ایک روایت بن گیا تھا۔یہی روایت مراکش کے قدیم شہریوں کی بھی پودینہ کی چائے نظام انہضام کی کئی تکالیف کو دور کرتی ہے تحقیق کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پودینہ کے تیل میں موجود مینتھول نظام ہضم کی آنتوں کی دیواروں کو سکون بخشتی ہے اور غذا کو ہضم کرنے والی مائع کو متحرک کرتی ہے اس طرح خوراک صحتمند انداز میں ہضم ہو جاتی ہے آیورویدک ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پودینہ کی گرم چائے کھانسی دور کرنے کے ساتھ ساتھ سینے کی بلغم کا بھی صفایا کرتی ہے ۔

پودینہ کی چائے نظام تنفس کی مختلف الرجیز کے خاتمے کے لیے بھی مفید ہے ۔ایک روایت کے مطابق پودینہ کی چٹنی جوڑوں کے درد کا خاتمہ کرتی ہے ۔اسے جوڑوں پر ملا جاتا ہے اور آدھے سر کے درد میں اسے کنپٹیوں اور پیشانی پر ملنا مفید رہتا ہے پودینہ کی چٹنی کے استعمال سے جوڑوں اور سر کے درد میں فوری اضافہ حاصل ہوتا ہے ۔ایک تازہ ترین ریسرچ میں ثابت کیا گیا ہے کہ چٹنی میں موجود تیل عضلات کو فوری سکون پہنچاتا ہے یوں درد کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔

پودینہ کی چٹنی کھانے سے جلدی امراض مثلاً ایگز یما کا خاتمہ ہوتا ہے پودینہ میں موجود اینٹی بیکٹیریل عناصر جلدی امراض کو ختم کر دیتے ہیں ۔
پودینہ ٹانسلز کا بھی بہترین علاج ہے ۔
جب ٹانسلز کی شدید تکلیف واقع ہوتو پودینہ کے عرق کے حصول کے لیے پودینہ کے پتوں کو پانی میں اُبال کر اس پانی سے غرارے کرنے سے ٹانسلز کا حملہ کوسوں دور چلا جاتا ہے ۔

جدید سائنسی ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ ٹانسلز کی تکلیف میں پودینہ کے پتوں سے غرارے کرنے کے دوران مینتھول کے جو بخارات اُٹھتے ہیں ‘وہ ٹانسلز کی شدت کم کرتے ہیں ۔یہ عرق نظام تنفس کی بیماری کورائزہ میں بھی نہایت مفید ہیں ۔